12 اگست 2014 - 08:05
غزہ، زخمی شیرخوار شہید، اقوام متحدہ کی جنگ بندی پر تاکید

غزہ پٹی پر صیہونی حکومت کے ہوائی حملوں میں زخمی ہونے والا شیر خوار بچہ شہید ہو گیا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق فلسطین کی وزارت صحت کے ترجمان اشرف القدرہ نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین کا ایک ڈیڑھ مہینے کے بچہ نے جس کا نام میداء محمد اصلان تھا، پیر کی صبح دم توڑ دیا۔

یہ بچہ صیہونی حکومت کے میزائل کے حملے میں شدید زخمی ہو گیا تھا۔ اس فلسطینی شیر خوار کی شہادت سے غزہ پر آٹھ جولائی سے شروع ہونے والوں اسرائیل کے وحشیانہ حملوں میں شہید ہونے والے فلسطینوں کی تعداد بڑھ کر 1941 ہو گئی ہے جن میں 468 بچے، 234 خواتین اور 86 بوڑھے افراد شامل ہیں۔
اس رپورٹ کے مطابق ان حملوں میں زخمی ہونے والے افراد کی تعداد 9889 ہو گئی ہے۔
در ایں اثنا مغربی کنارے پر واقع نابلس شہر کے نزدیک قبلان گاؤں میں صیہونی فوجیوں کے حملے میں ایک فلسطینی جوان شہید اور 10 دیگر زخمی ہو گئے۔
دوسری جانب غزہ پٹی میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فوجیوں نے مزید 26 فلسطینوں کو گرفتار کر لیا ہے۔
فلسطینی کی وفا خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق فلسطینوں کی قیدیوں سے متعلق وزارت نے اعلان کیا ہے کہ اب تک غزہ سے 26 فلسطینیوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گرفتار فلسطینیوں کو عسقلان جیل میں بند رکھا گیا ہے۔
ادھر اقوام متحدہ نے غزہ میں جنگ بند کئے جانے پر تاکید کی ہے۔
اقوام متحدہ کے ایک اعلی عہدیدار جیمز رالی نے کہا ہے کہ جب تک غزہ کا محاصرہ ختم نہيں کیا جاتا اس وقت تک جنگ ختم نہيں ہوگی۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کے اس عہدیدار نے کہا کہ غزہ کا شدید اور کمر توڑ محاصرہ ختم ہونا چاہئے تاکہ غزہ کے عوام اس جنگ زدہ علاقے کی تعمیر نو کرسکیں اور اگر ایسا نہ ہوا تو تشدد کا سلسلہ جاری رہےگا۔
اقوام متحدہ کے عہدیدار نے کہا کہ غزہ کے عوام کو دوسرے علاقوں کے عوام سے رابطے اور تجارت کا حق ہے۔ جیمز رالی نے خبردار کیا کہ غزہ کا محاصرہ ختم نہ ہونے کی صورت میں جنگ کا دوسرا دور شروع ہونے کا امکان زيادہ ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے اس عہدید دار نے تاکید کے ساتھ کہا کہ اسرائیلی حملوں میں غزہ کی صنعت کا بڑا حصہ تباہ ہوچکا ہے اور تقریبا نصف زرعی زمین برباد ہوچکی ہیں جس کےنتیجے میں تقریبا تین لاکھ افراد بے روزگار ہوچکے ہيں۔
.......

/169